اشک بے ساختہ پتھر سے نکل آتے ہیں
یہ وہ چشمے ہیں جو ٹھوکر سے نکل آتے ہیں
غیر موجود کا دکھ ہونے ہی لگتا ہے کہ پھر
کام اشیاء میسر سے نکل آتے ہیں
واقعہ ہوتا ہے سب اسکی طرف دوڑتے ہیں
ہم بھی گھبرائے ہوئے گھر سے نکل آتے ہیں
خود کلامی کی بھی عادت نہیں میری پھر بھی
لوگ کیسے میرے اندر سے نکل آتے ہیں
معذرت میں اگر اڑ جاؤں تیرے ہاتھوں سے
بعض اوقات میرے پر سے نکل آتے ہیں
نہر میں ڈوبنے والوں کو بتائے کوئی
اس کے تیراک سمندر سے نکل آتے ہیں
دانش نقوی