دانش نقوی

شاعر

تعارف شاعری

اسی بات کا میرے دل سے ڈر نہیں جا رہا

اسی بات کا میرے دل سے ڈر نہیں جا رہا
کوئی شخص بھی مجھے چھوڑ کر نہیں جا رہا
میرے جسم پر کئی نیلے نیلے نشان ہیں
تیرا زہر اتنا بھی بے اثر نہیں جا رہا
تونے کس کے کہنے پہ تیغ مجھ پہ اٹھائی ہے
کوئی زخم بھی تیرے وار پر نہیں جا رہا
تیرے شہر سے میں نکل تو گھر کو پڑا مگر
مجھے یوں لگا کہ میں اپنے گھر نہیں جا رہا
مجھے زخم کیوں نہیں لگ رہا کسی جنگ میں
کوئی تیر سینے میں کیوں اتر نہیں جا رہا
میرا دل تو اب بھی تری شراب کے حق میں ہے
مگر اس طرف مرا اب جگر نہیں جا رہا

دانش نقوی