دانش نقوی

شاعر

تعارف شاعری

ڈھیر سامان نکل آیا ہے کم رہتا ہے

ڈھیر سامان نکل آیا ہے کم رہتا ہے
خواب تو کھینچ لیے، آنکھ میں نم رہتا ہے
ریت مت دیکھ، جو سنتا ہے تو آواز لگا
ایسی آندھی میں بھلا نقش قدم رہتا ہے
دل کی وحشت کو مکمل تو قرار آ جائے
اک ذرا دیر تو رک تھوڑا سا غم رہتا ہے
میرا اک ایسے قبیلے سے تعلق ہے جہاں
ہاتھ بے شک نہ رہے اس میں علم رہتا ہے
دور سے لوگ وہی کہہ کے بلاتے ہیں مجھے
ایک چہرہ جو میرے چہرے میں ضم رہتا ہے
سال بھر کرتے ہیں پت جھڑ کی دعائیں دانش
تب کہیں سوکھے درختوں کا بھرم رہتا ہے

دانش نقوی