درون جسم کی چیخ و پکار سے پہلے
صدائیں آتی تھیں قرب و جوار سے پہلے
ہمارے ربط کو ترتیب نے بگاڑا ہے
میں اسکے ساتھ کھڑا تھا قطار سے پہلے
نظر نہ آنا بصارت کا عیب تھوڑی ہے
دکھائی دیتا ہے گرد و غبار سے پہلے
کسی نے گنتے ہوئے مجھ سے بے ایمانی کی
میں ڈھیر سارا پڑا تھا شمار سے پہلے
مجھے یہ اپنے قبیلے کا شخص لگتا ہے
گرے ہیں بازو زمیں پر سوار سے پہلے
تمہارا دکھ بھی اسی شرط پر سنوں گا میں
کروں گا بات کسی غمگسار سے پہلے
میں سر جھکا کے ہر اک بات مان لیتا ہوں
کسے خبر تھی تیرے اختیار سے پہلے
دانش نقوی