دانش نقوی

شاعر

تعارف شاعری

کچھ بھی پوچھا نہیں جاتا نہ سنا جاتا ہے

کچھ بھی پوچھا نہیں جاتا نہ سنا جاتا ہے
میرے جیسوں کو فقط دیکھ لیا جاتا ہے
میں کہ دن بھر کی مشقت سے کماتا ہوں سکوت
شام ہوتے ہی کوئ شور مچا جاتا ہے
ہم ہیں دفتر میں کسی کام سے آئے ہوئے لوگ
"بند ہے" کہہ کے جنہیں ٹال دیا جاتا ہے
یہ میرے واسطے لازم ہے کہ تو بات کرے
تیرا چپ رہنا میری عمر گھٹا جاتا ہے
اس جگہ صاف نظر آتا ہے ڈھلتا سورج
شام کے وقت یہاں زرد ہوا جاتا ہے
ایک بے جرم کی گردن سے لہو یوں نکلا
جیسے شہہ رگ سے جدا ہو کے خدا جاتا ہے

دانش نقوی