دانش نقوی

شاعر

تعارف شاعری

کوئ ولی ہوں اور نہ طریقت ہے میرے پاس

کوئ ولی ہوں اور نہ طریقت ہے میرے پاس
لے دے کے صرف تیری محبت ہے میرے پاس
تیری نہیں ہے اتنی سماعت کہ سن سکے
خاموشیوں کی پوری وضاحت ہے میرے پاس
مت آ قریب دوں گا یہی مشورہ تجھے
کچھ بھی نہیں ہے صرف اذیت ہے میرے پاس
تجھ برف کے بدن کو بہاو میں لا سکوں
تیری طلب کے جتنی حرارت ہے میرے پاس
میں جانتا ہوں،لاکھ مکرتا پھرے کوئ
پہچانا جاوں اتنی شباہت ہے میرے پاس
ویرانی!! مجھ کو گھیر! کوئ معزرت نہ کر
تیرے لیے تو آج بھی عزت ہے میرے پاس

دانش نقوی