کسی کو اپنی، کسی کو اپنی، کسی کو اپنی پڑی ہوئی ہے
ہمیں تو لے دے کے ساری دنیا میں صرف تیری پڑی ہوئی ہے
ہم اپنے بارے میں سب سوالات اور لوگوں سے پوچھتے ہیں
ہمارے ہاتھوں سے زندگی کی کتاب اونچی پڑی ہوئی ہے
وہ غیر لوگوں کی غیر دھرتی پہ پاؤں کے نقش گاڑھتا ہے
ادھر ہمارے "چناب" کی ریت اب بھی سونی پڑی ہوئی ہے
بہت پریشاں ہوں اتنی عجلت میں ٹھیک چہرہ نہیں بنے گا
میں خود کو ترتیب دے رہا ہوں اور اس کو جلدی پڑی ہوئی ہے
یہ اس کی مرضی ہے جس کو دیکھے مگر مساوات سے تو دیکھے
کسی کی رنگت دہک رہی ہے کسی کی پھیکی پڑی ہوئی ہے
دانش نقوی