دانش نقوی

شاعر

تعارف شاعری

مصیبتیں سر برہنہ ہونگی عقیدتیں بے لباس ہونگی

مصیبتیں سر برہنہ ہونگی عقیدتیں بے لباس ہونگی
تھکے ہووں کو کہاں پتہ تھا کہ صبحیں یوں بد حواس ہونگی
تو دیکھ لینا ہمارے بچوں کے بال جلدی سفید ہونگے
ہماری چھوڑی ہوئی اداسی سے سات نسلیں اداس ہونگی
کہیں ملیں تم کو بھوری رنگت کی گہری آنکھیں، مجھے بتانا
میں جانتا ہوں کہ ایسی آنکھیں بہت اذیت شناس ہونگی
میں سردیوں کی ٹھٹھرتی شاموں کے سرد لمحوں میں سوچتا ہوں
وہ سرخ ہاتھوں کی گرم پوریں نجانے اب کس کو راس ہونگی
یہ جس کی بیٹی کے سر کی چادر کئ جگہ سے پھٹی ہوئ ہے
تم اس کے گاوں میں جا کے دیکھو تو آدھی فصلیں کپاس ہونگی
~

دانش نقوی