دانش نقوی

شاعر

تعارف شاعری

پڑھوں گا پیچھے، امامت نہیں کروں گا میں

پڑھوں گا پیچھے، امامت نہیں کروں گا میں
نماز ہجر کی نیت نہیں کروں گا میں
جسے سنبھال کے رکھتا ہوں پھر نہیں ملتا
سو اب کسی کی حفاظت نہیں کروں گا میں
وہ ایک بارے میرے سامنے تو آجائے
کسی طرح کی حماقت نہیں کروں گا میں
کسی کو اپنا تعلق نہیں بتاوں گا
بتا دیا تو وضاحت نہیں کروں گا میں
ہزار قسم کی مجھ کو تیری ضرورت ہے
تیرے بدن پہ قناعت نہیں کروں گا میں
مجھے قبیلے کی عزت عزیز ہے دانش
کسی کمینے کی بیعت نہیں کروں گا میں

دانش نقوی