تھرکتا رہتا ہے اکثر دھمال ڈالتا ہے
کوئی تو سینے کے اندر دھمال ڈالتا ہے
یہ سارے لوگ قلندر کے آگے ناچتے ہیں
تمہارے در پہ قلندر دھمال ڈالتا ہے
بس اتنا کہہ کے فقیروں نے راہ دی مجھ کو
یہ پہلے والوں سے بہتر دھمال ڈالتا ہے
تم اسکے پاوں برابر بھی ہونہیں سکتے
وہ ایک، سو کے برابر دھمال ڈالتا ہے
عجیب ان کو شکایت لگائی لوگوں نے
حضور آپ کا نوکر دھمال ڈالتا ہے
دانش نقوی