تمہاری آنکھ ہے دریائی، کھینچ لیتی ہے
بہاو دے کے توانائی کھینچ لیتی ہے
بہت سے لوگ اچانک یونہی نہیں مرتے
انہیں زمین میں تنہائی کھینچ لیتی ہے
کبھی کبھی تو تمہاری کشیدہ کار نظر
لباس زیست کی ترپائی کھینچ لیتی ہے
تمہیں وہ روشنی سایہ نوازتی ہوگی
مرے بدن سے تو پرچھائی کھینچ لیتی ہے
میں مطمئن نہ ہوا اس سے باہر آکر بھی
مجھے پتہ تھا وہ گہرائی کھینچ لیتی ہے
ہمارے پاوں بھلا تو چکے ہیں رقص مگر
کبھی کبھی کوئی شہنائی کھینچ لیتی ہے
دانش نقوی