وہ جب ملا تھا ہوس سے بھی جی بھرا ہوا تھا
اور عشق ہم نے بہت بار کرلیا ہوا تھا
ذرا سی دیر بھی کرتا تو خرچ ہوجاتا
میں اپنے پاس یہی آخری بچا ہوا تھا
ہماری روح کو عجلت میں ایسے کھینچا گیا
کہیں کہیں پہ ابھی تک بدن لگا ہوا تھا
کسی کے کہنے پہ بالکل یقیں نہیں کرتا
مگر وہ مجھ سے میرے سامنے جدا ہوا تھا
تجھے میں اور سمجھ کر ہی ساتھ لے آیا
کسی کا نام کسی اور پر لکھا ہوا تھا
دانش نقوی