یہ آپ جانیں کہ رکھنا ہے یا نہیں رکھنا
کسی نے آپ کا چھوڑا ہوا نہیں رکھنا
کہیں وہ ضد میں ارادہ بدل نہ دے اپنا
زیادہ دیر بھی اس کو خفا نہیں رکھنا
نوازشوں میں کمی بیشی اس کی فطرت ہے
کسی کو اس نے کبھی ایک سا نہیں رکھنا
مجھے قبول ہے خالی پڑا رہوں لیکن
جہاں پہ تم ہو وہاں کوئی دوسرا نہیں رکھنا
تمہارے ہاتھ چراغوں کا قتل کرتے ہیں
ہماری قبر پہ تم نے دیا نہیں رکھنا
دانش نقوی