دلاور علی آزر

شاعر

تعارف شاعری

آنکھوں سے کچھ چبھن بھی دل بے قرار کھینچ

آنکھوں سے کچھ چبھن بھی دل بے قرار کھینچ
اشکوں کو جمع کرتے ہوئے انتظار کھینچ
تخلیق نو میں رکھ نئے مصرعے کے خد و خال
لوح سخن پہ لفظ کی تازہ بہار کھینچ
ڈھیل اتنی دے رہا ہے محبت میں کیوں اسے
ہاتھوں سے دل نکل ہی نہ جائے مہار کھینچ
ماضی سے تو ملا دے مرے حال کا سرا
میں منتظر کھڑا ہوں مرے یار تار کھینچ
کس نے کہا تھا چاند کو گرہن سے فتح کر
کس نے کہا تھا سایۂ نصف النہار کھینچ
کب تک میں اس گلی کی طرف رخ کیے رکھوں
ایسے تو اے کشش نہ مجھے بار بار کھینچ
غرق اس کو کر نہ دے کہیں لہروں کا اضطراب
کشتی پہ ہاتھ رکھ اسے دریا کے پار کھینچ

دلاور علی آزر