دلاور علی آزر

شاعر

تعارف شاعری

کرچی کرچی خواہشوں کا استعارہ خواب ہے

کرچی کرچی خواہشوں کا استعارہ خواب ہے
آسماں سے گر کے مجھ میں پارہ پارہ خواب ہے
نیند سے پیچھا چھڑا کر آ رہا ہوں میں مگر
میری آنکھوں کے تعاقب میں دوبارہ خواب ہے
خاک سے بنتی ہوئی تصویر ہے تمثیل کی
چاک پر رکھے ہوئے پیکر کا گارا خواب ہے
نیند کی کشتی اتر کر گم نہ ہو جائے کہیں
وہ سمندر ہوں کہ جس کا ہر کنارہ خواب ہے
خواب ہے پھولوں کا رنگا رنگ ہونا شاخ پر
خاک سے اٹھتی ہوئی خوشبو کی دھارا خواب ہے
جو تمہارے ساتھ میں نے رات کاٹی وہم تھی
جو تمہارے ساتھ میں نے دن گزارہ خواب ہے
جھانک لو آزرؔ اگر تصدیق کرنا ہے تمہیں
اور کیا ہو گا ان آنکھوں میں تمہارا خواب ہے

دلاور علی آزر