کیسے بجھتا بھلا چراغ مرا
دل نے روشن رکھا دماغ مرا
اب مجھے علم ہے کہ میں کیا ہوں
اب چھلکتا نہیں ایاغ مرا
آ رہی ہے ہوا کسے چھو کر
آج صحرا ہے باغ باغ مرا
ہاتھ شاید تمھارے آ جائے
مجھ کو حاصل کہاں فراغ مرا
چاروں اطراف تھی ہوا کی فصیل
کس نے گل کر دیا چراغ مرا
ایسا الجھا ہے مجھ سے تار خرد
کام کرتا نہیں دماغ مرا
گم ہوں میں اپنی ذات میں آزرؔ
کیا لگے وقت کو سراغ مرا
دلاور علی آزر