دلاور علی آزر

شاعر

تعارف شاعری

رہتا ہوں رات دن میں یوںہی مست شعر میں

رہتا ہوں رات دن میں یوںہی مست شعر میں
مجھ کو لگانا پڑتی نہیں جست شعر میں
پیمانہ کوئی اور نہیں بن سکا ابھی
کرتا ہوں خود کو پیش سر دست شعر میں
ہونے کا اور نہ ہونے کا اس میں سراغ ہے
بکھرے پڑے ہیں یوں عدم و ہست شعر میں
اس کے لیے تو دل سے قصیدہ لکھوں گا میں
کیوں اس کا تذکرہ ہو کسی پست شعر میں
میری تراش ملتی نہیں ہے کسی سے بھی
رکھتا ہوں میں انوکھا در و بست شعر میں
ہم پست قامتوں کا وہاں ذکر کیا کہ جب
پیکان تیر میرؔ ہے پیوست شعر میں
کرنا ہے اپنا درد بھی آزرؔ بیاں تجھے
لانا ہے قافیہ بھی زبردست شعر میں

دلاور علی آزر