شانوں پہ اپنے بارِ الٰہی نہیں لیا
میں نے کسی کا دُکھ مرے بھائی نہیں لیا
دُنیا پڑی ہوئی تھی نگاہوں کے سامنے
لیکن ترے فقیر نے کچھ بھی نہیں لیا
یاد آ گئی قناعتِ خیر البشر مجھے
گندم تو لی دُکاں سے مگر گِھی نہیں لیا
کُھلتا بھی کیسے عشق کہ مکتب میں جا کے میں
پڑھتا رہا اور اُس سے سبق ہی نہیں لیا
تب تک زبان بند رکھی اُس کے رو بہ رو
جب تک کہ میں نے زخمِ سخن سی نہیں لیا
سونا ہے میں نے خاک کی چادر کو اُوڑھ کر
جینا ہے مجھ کو خوابِ دگر جی نہیں لیا
آزر نہ جانے خلق کو کیسے خبر ہوئی
میں نے تو اُس کا نام کبھی بھی نہیں لیا
دلاور علی آزر