search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
ہمارے متعلق
رابطہ کیجیے
احسان دانش
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
اپنے بے نور چراغوں کو ضیا دی جائے
عشق ہر چند مصائب سے پریشاں نہ ہوا
بہار آئی ہے پھر جھوم کر سحاب اٹھا
جستجو رہرو الفت کی جو کامل ہو جائے
رندان تشنہ کام کو جا کر خبر کریں
موسم سے رنگ و بو ہیں خفا دیکھتے چلو
نہ جانے سحر یہ کیا تو نے چشم یار کیا
آنکھ میں آنسو ہیں احساس مسرت دل میں ہے
سوز جنوں کو دل کی غذا کر دیا گیا
ہجوم رنج سے دل کو مسرت ہوتی جاتی ہے
عشق کب اپنے مقاصد کا نگہباں نہ ہوا
اظہار صداقت میں اثر کیوں نہیں ہوتا
بخش دی حال زبوں نے جلوہ سامانی مجھے
حوصلے مایوس ذوق جستجو ناکام ہے
شب خمار حسن ساقی حیرت میخانہ تھا
کہاں محفل میں مجھ تک بادۂ گلفام آتا ہے
جلا ہے ہائے کس جان چمن کی شمع محفل سے
اٹھا ہوں اک ہجوم تمنا لئے ہوئے
کبھی کبھی جو وہ غربت کدے میں آئے ہیں
ترا جمال ترا حسن کامگار رہے
یوں اس پہ مری عرض تمنا کا اثر تھا
کرتے کرتے امتزاج کعبہ و بت خانہ ہم
مجھے پوچھا ہے آ کر تم نے اس اخلاق کامل سے
مرے مٹانے کی تدبیر تھی حجاب نہ تھا
جبیں کی دھول جگر کی جلن چھپائے گا
میں عوام میں ہوں لیکن نہیں خوئے عامیانہ
اگر محبت کے مدعی ہو تو یہ رویہ روا نہیں ہے
زندگی میں اس کو کیف زندگی حاصل نہیں
وفائیں کر کے جفاؤں کا غم اٹھائے جا
ہنگامۂ خودی سے تو بے نیاز ہو جا
آیا نہیں ہے راہ پہ چرخ کہن ابھی
عمر رفتہ کی کہانی کیا ہے
کچھ اس طرح سے تصور میں آ رہا ہے کوئی
بسا اوقات مایوسی میں یہ عالم بھی ہوتا ہے
کل رات کچھ عجیب سماں غم کدے میں تھا
ہزاروں غم ہیں اس منزل میں منزل دیکھنے والے
رہے جو زندگی میں زندگی کا آسرا ہو کر
بچھڑ کر ان سے یوں غم میں گزاری زندگی ہم نے
جب بھی خلوت میں وہ یاد آئے گا
جو لے کے ان کی تمنا کے خواب نکلے گا
بنا دیں گی دنیا کو اک دن شرابی
رموز بے خودی سمجھے نہ اسرار خودی سمجھے
رنگ تہذیب و تمدن کے شناسا ہم بھی ہیں
اپنی رسوائی کا احساس تو اب کچھ بھی نہیں
ہم سے الفت جتائی جاتی ہے
وفا کا عہد تھا دل کو سنبھالنے کے لئے
جب رخ حسن سے نقاب اٹھا
اب کہو کارواں کدھر کو چلے
نظر فریب قضا کھا گئی تو کیا ہوگا
آج بھڑکی رگ وحشت ترے دیوانوں کی
عشق کی دنیا میں اک ہنگامہ برپا کر دیا
جینے کے لیے جو مر رہے ہیں
مل مل کے دوستوں نے وہ دی ہے دغا مجھے
رعنائی کونین سے بے زار ہمیں تھے
دل کی رغبت ہے جب آپ ہی کی طرف
عشق کو تقلید سے آزاد کر
توبہ کی نازشوں پہ ستم ڈھا کے پی گیا
کچھ لوگ جو سوار ہیں کاغذ کی ناؤ پر
نہ سیو ہونٹ نہ خوابوں میں صدا دو ہم کو
یوں نہ مل مجھ سے خفا ہو جیسے
پرسش غم کا شکریہ کیا تجھے آگہی نہیں
یہ تو نہیں کہ تم سے محبت نہیں مجھے