search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
رابطہ
فیض احمد فیض
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
ظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا
یوں سجا چاند کہ جھلکا ترے انداز کا رنگ
یہ کس خلش نے پھر اس دل میں آشیانہ کیا
یہ جفائے غم کا چارہ وہ نجات دل کا عالم
وہ بتوں نے ڈالے ہیں وسوسے کہ دلوں سے خوف خدا گیا
وفائے وعدہ نہیں وعدۂ دگر بھی نہیں
تمہاری یاد کے جب زخم بھرنے لگتے ہیں
تم آئے ہو نہ شب انتظار گزری ہے
تری امید ترا انتظار جب سے ہے
ترے غم کو جاں کی تلاش تھی ترے جاں نثار چلے گئے
شیخ صاحب سے رسم و راہ نہ کی
شام فراق اب نہ پوچھ آئی اور آ کے ٹل گئی
سبھی کچھ ہے تیرا دیا ہوا سبھی راحتیں سبھی کلفتیں
سب قتل ہو کے تیرے مقابل سے آئے ہیں
رنگ پیراہن کا خوشبو زلف لہرانے کا نام
راز الفت چھپا کے دیکھ لیا
قرض نگاہ یار ادا کر چکے ہیں ہم
پھر حریف بہار ہو بیٹھے
نصیب آزمانے کے دن آ رہے ہیں
نہیں نگاہ میں منزل تو جستجو ہی سہی
نہ گنواؤ ناوک نیم کش دل ریزہ ریزہ گنوا دیا
نہ اب رقیب نہ ناصح نہ غم گسار کوئی
کچھ پہلے ان آنکھوں آگے کیا کیا نہ نظارا گزرے تھا
کچھ محتسبوں کی خلوت میں کچھ واعظ کے گھر جاتی ہے
کبھی کبھی یاد میں ابھرتے ہیں نقش ماضی مٹے مٹے سے
کب یاد میں تیرا ساتھ نہیں کب ہات میں تیرا ہات نہیں
کب ٹھہرے گا درد اے دل کب رات بسر ہوگی
کب تک دل کی خیر منائیں کب تک رہ دکھلاؤ گے
عشق منت کش قرار نہیں
ہمت التجا نہیں باقی
ہر حقیقت مجاز ہو جائے
ہمیں سے اپنی نوا ہم کلام ہوتی رہی
ہم پر تمہاری چاہ کا الزام ہی تو ہے
ہم نے سب شعر میں سنوارے تھے
ہم مسافر یوں ہی مصروف سفر جائیں گے
حیراں ہے جبیں آج کدھر سجدہ روا ہے
گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلے
گو سب کو بہم ساغر و بادہ تو نہیں تھا
گرمئ شوق نظارہ کا اثر تو دیکھو
دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے
دل میں اب یوں ترے بھولے ہوئے غم آتے ہیں
دربار میں اب سطوت شاہی کی علامت
چشم میگوں ذرا ادھر کر دے
چاند نکلے کسی جانب تری زیبائی کا
بات بس سے نکل چلی ہے
اب وہی حرف جنوں سب کی زباں ٹھہری ہے
اب کے برس دستور ستم میں کیا کیا باب ایزاد ہوئے
اب جو کوئی پوچھے بھی تو اس سے کیا شرح حالات کریں
''آپ کی یاد آتی رہی رات بھر''
آج یوں موج در موج غم تھم گیا اس طرح غم زدوں کو قرار آ گیا
آئے کچھ ابر کچھ شراب آئے