فہمیدہ ریاض

شاعر

تعارف شاعری

تعارف

فہمیدہ ریاض اردو ادب کی اُن منفرد، جری اور اثر انگیز آوازوں میں شمار ہوتی ہیں جنہوں نے شاعری کو محض جمالیاتی اظہار کے بجائے فکری، سماجی اور سیاسی مزاحمت کا وسیلہ بنایا۔ وہ شاعرہ، افسانہ نگار، ناول نگار، مترجم اور انسانی و نسوانی حقوق کی سرگرم علمبردار تھیں، جن کی تحریریں جنوبی ایشیا کے ترقی پسند ادبی منظرنامے میں گہری شناخت رکھتی ہیں۔ فہمیدہ ریاض 28 جولائی 1946 کو میرٹھ (متحدہ ہندوستان) میں پیدا ہوئیں۔ تقسیمِ ہند کے بعد ان کا خاندان پاکستان منتقل ہو کر حیدرآباد، سندھ میں آباد ہوا۔ ان کے والد کا انتقال ان کے بچپن میں ہو گیا تھا، جس کے بعد ان کی پرورش ان کی والدہ نے کی، جنہوں نے فہمیدہ ریاض کی فکری و تعلیمی تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔

فہمیدہ ریاض نے کم عمری ہی میں ادب اور زبانوں کی طرف غیر معمولی رجحان کا اظہار کیا۔ انہوں نے اردو کے ساتھ ساتھ فارسی اور سندھی ادب کا بھی گہرا مطالعہ کیا، جو آگے چل کر ان کے فکری تنوع اور ترجمہ نگاری کی بنیاد بنا۔ عملی زندگی کے آغاز میں انہوں نے ریڈیو پاکستان میں نیوز کاسٹر کے طور پر خدمات انجام دیں اور بعد ازاں بی بی سی اردو سے بھی وابستہ رہیں۔ صحافت، اشاعت اور ترجمہ ان کے مستقل پیشے رہے، مگر ان کی اصل شناخت ان کا ادبی اور فکری کام بنا، جو روایت شکن، جرات مند اور واضح موقف کا حامل تھا۔

ادبی طور پر فہمیدہ ریاض کا شمار ترقی پسند اور نسوانی فکر کی نمایاں نمائندہ شخصیات میں ہوتا ہے۔جنرل ضیاء الحق کے دورِ آمریت میں ان کی تحریریں ریاستی جبر کی زد میں آئیں، جس کے نتیجے میں انہیں سیاسی دباؤ اور مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی دور میں وہ پاکستان چھوڑ کر بھارت چلی گئیں، جہاں انہوں نے جلاوطنی کے کئی برس گزارے۔ یہ تجربہ ان کی شاعری اور نثر میں گہرے طور پر منعکس ہوا، خاص طور پر ان کا مجموعہ "اپنا جرم ثابت ہے" ضیائی آمریت کے خلاف فکری مزاحمت کی ایک نمایاں مثال ہے۔فہمیدہ ریاض کی تصانیف کا دائرہ شاعری، ناول، افسانہ، تنقید اور تراجم تک پھیلا ہوا ہے۔ ان کے اہم شعری مجموعوں میں "پتھر کی زبان"، "بدن دریدہ"، "خطِ مرموز" اور دیگر شامل ہیں، جن میں عورت کی شناخت، جسمانی و ذہنی آزادی اور سماجی تضادات کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ نثری ادب میں ان کا ناول "گوداوری" خاص طور پر معروف ہے۔ ترجمہ نگاری کے میدان میں ان کا سب سے بڑا اور تاریخی کارنامہ مولانا جلال الدین رومی کی مثنوی کا اردو میں بامحاورہ اور شعری ترجمہ "یہ خانۂ آب و گل" ہے، جو علمی و ادبی حلقوں میں بے حد سراہا گیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے شاہ عبداللطیف بھٹائی، شیخ ایاز اور ایرانی شاعرہ فروغ فرخزاد کے منتخب کلام کے تراجم بھی کیے، جس سے ان کی لسانی مہارت اور فکری وسعت کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔

ادب اور سماج کے لیے ان کی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے انہیں صدارتی تمغۂ حسنِ کارکردگی (Pride of Performance) سے نوازا۔ اس کے علاوہ انہیں مختلف قومی و بین الاقوامی ادبی اور انسانی حقوق کے اعزازات بھی حاصل ہوئے، جن میں ترقی پسند ادبی تنظیموں اور ثقافتی اداروں کی جانب سے دیے گئے ایوارڈز شامل ہیں۔ فہمیدہ ریاض کو محض ایک شاعرہ کے طور پر نہیں بلکہ ایک فکری علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جنہوں نے عورت کی آواز کو دبے لفظوں کے بجائے واضح اور طاقتور لہجے میں پیش کیا۔ زندگی کے آخری برسوں میں فہمیدہ ریاض کراچی اور لاہور کے درمیان مقیم رہیں۔ نومبر 2018 میں وہ لاہور میں اپنی بیٹی سے ملنے آئیں، جہاں طویل علالت کے بعد 21 نومبر 2018 کو ان کا انتقال ہو گیا۔ ان کی عمر مختلف حوالہ جات میں 71 یا 72 سال بیان کی جاتی ہے، جو سالِ ولادت کے اختلاف کی وجہ سے ہے۔ ان کی تدفین لاہور کے بہادر شاہ قبرستان میں کی گئی۔ ان کی وفات کے بعد اردو ادب ایک ایسی جری آواز سے محروم ہو گیا جو خوف، مصلحت اور روایت کی زنجیروں کو توڑنے کا حوصلہ رکھتی تھی۔