search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
رابطہ
فراق گورکھپوری
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
زندگی درد کی کہانی ہے
زیر و بم سے ساز خلقت کے جہاں بنتا گیا
زمیں بدلی فلک بدلا مذاق زندگی بدلا
یہ نکہتوں کی نرم روی یہ ہوا یہ رات
یہ نرم نرم ہوا جھلملا رہے ہیں چراغ
وہ چپ چاپ آنسو بہانے کی راتیں
وقت غروب آج کرامات ہو گئی
طور تھا کعبہ تھا دل تھا جلوہ زار یار تھا
تمہیں کیوں کر بتائیں زندگی کو کیا سمجھتے ہیں
تیز احساس خودی درکار ہے
ستاروں سے الجھتا جا رہا ہوں
شام غم کچھ اس نگاہ ناز کی باتیں کرو
سر میں سودا بھی نہیں دل میں تمنا بھی نہیں
سمجھتا ہوں کہ تو مجھ سے جدا ہے
رکی رکی سی شب مرگ ختم پر آئی
رس میں ڈوبا ہوا لہراتا بدن کیا کہنا
رات بھی نیند بھی کہانی بھی
نگاہ ناز نے پردے اٹھائے ہیں کیا کیا
نرم فضا کی کروٹیں دل کو دکھا کے رہ گئیں
مجھ کو مارا ہے ہر اک درد و دوا سے پہلے
میکدے میں آج اک دنیا کو اذن عام تھا
کچھ نہ کچھ عشق کی تاثیر کا اقرار تو ہے
کچھ اشارے تھے جنہیں دنیا سمجھ بیٹھے تھے ہم
کوئی پیغام محبت لب اعجاز تو دے
کسی کا یوں تو ہوا کون عمر بھر پھر بھی
کمی نہ کی ترے وحشی نے خاک اڑانے میں
جنون کارگر ہے اور میں ہوں
جور و بے مہری اغماض پہ کیا روتا ہے
جہان غنچۂ دل کا فقط چٹکنا تھا
اک روز ہوئے تھے کچھ اشارات خفی سے
ہجر و وصال یار کا پردہ اٹھا دیا
ہر نالہ ترے درد سے اب اور ہی کچھ ہے
ہاتھ آئے تو وہی دامن جاناں ہو جائے
غم ترا جلوہ گہہ کون و مکاں ہے کہ جو تھا
فراقؔ اک نئی صورت نکل تو سکتی ہے
دیدار میں اک طرفہ دیدار نظر آیا
دیتے ہیں جام شہادت مجھے معلوم نہ تھا
دور آغاز جفا دل کا سہارا نکلا
چھیڑ اے دل یہ کسی شوخ کے رخساروں سے
چھلک کے کم نہ ہو ایسی کوئی شراب نہیں
بے ٹھکانے ہے دل غمگیں ٹھکانے کی کہو
بستیاں ڈھونڈھ رہی ہیں انہیں ویرانوں میں
بہت پہلے سے ان قدموں کی آہٹ جان لیتے ہیں
بحثیں چھڑی ہوئی ہیں حیات و ممات کی
اپنے غم کا مجھے کہاں غم ہے
اب دور آسماں ہے نہ دور حیات ہے
اب اکثر چپ چپ سے رہیں ہیں یونہی کبھو لب کھولیں ہیں
آنکھوں میں جو بات ہو گئی ہے
آج بھی قافلۂ عشق رواں ہے کہ جو تھا
آئی ہے کچھ نہ پوچھ قیامت کہاں کہاں