search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
رابطہ
گلزار
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
تجھ سے ناراض نہیں زندگی
زندگی یوں ہوئی بسر تنہا
ذکر ہوتا ہے جہاں بھی مرے افسانے کا
ذکر آئے تو مرے لب سے دعائیں نکلیں
وہ خط کے پرزے اڑا رہا تھا
تجھ کو دیکھا ہے جو دریا نے ادھر آتے ہوئے
تنکا تنکا کانٹے توڑے ساری رات کٹائی کی
شام سے آنکھ میں نمی سی ہے
شام سے آج سانس بھاری ہے
سہما سہما ڈرا سا رہتا ہے
صبر ہر بار اختیار کیا
رکے رکے سے قدم رک کے بار بار چلے
پھولوں کی طرح لب کھول کبھی
پھول نے ٹہنی سے اڑنے کی کوشش کی
پیڑ کے پتوں میں ہلچل ہے خبردار سے ہیں
اوس پڑی تھی رات بہت اور کہرہ تھا گرمائش پر
مجھے اندھیرے میں بے شک بٹھا دیا ہوتا
کوئی خاموش زخم لگتی ہے
کوئی اٹکا ہوا ہے پل شاید
خوشبو جیسے لوگ ملے افسانے میں
کھلی کتاب کے صفحے الٹتے رہتے ہیں
کہیں تو گرد اڑے یا کہیں غبار دکھے
کانچ کے پیچھے چاند بھی تھا اور کانچ کے اوپر کائی بھی
جب بھی یہ دل اداس ہوتا ہے
جب بھی آنکھوں میں اشک بھر آئے
ہوا کے سینگ نہ پکڑو کھدیڑ دیتی ہے
ہر ایک غم نچوڑ کے ہر اک برس جیے
ہم تو کتنوں کو مہ جبیں کہتے
ہاتھ چھوٹیں بھی تو رشتے نہیں چھوڑا کرتے
گلوں کو سننا ذرا تم صدائیں بھیجی ہیں
گرم لاشیں گریں فصیلوں سے
ایک پرواز دکھائی دی ہے
دن کچھ ایسے گزارتا ہے کوئی
دکھائی دیتے ہیں دھند میں جیسے سائے کوئی
درد ہلکا ہے سانس بھاری ہے
بیتے رشتے تلاش کرتی ہے
بے سبب مسکرا رہا ہے چاند
ایسا خاموش تو منظر نہ فنا کا ہوتا
آنکھوں میں جل رہا ہے پہ بجھتا نہیں دھواں