حبیب احمد، ادبی دنیا میں حبیب جالب کے نام سے معروف، 24 مارچ 1928ء کو ہوشیارپور کے قصبے میانی افغاناں میں پیدا ہوئے۔ تقسیمِ ہند کے دور میں انہوں نے ابتدائی تعلیم وہیں سے حاصل کی، مگر معاشی مسائل اور سیاسی انتشار نے رسمی تعلیم کا سلسلہ آگے بڑھنے نہ دیا۔ 1947ء میں ہجرت کے بعد وہ پاکستان آ گئے اور لاہور میں مستقل سکونت اختیار کی۔ کم عمری سے عوامی دکھ اور سیاسی بے حسی کے خلاف بغاوت ان کے لہو میں شامل تھی، جس نے آگے چل کر انہیں برصغیر کے سب سے توانا عوامی اور مزاحمتی شاعر کے طور پر متعارف کروایا۔
جالب نے عملی زندگی کا آغاز فلم ڈسٹری بیوشن کمپنی سے کیا اور کچھ عرصہ تک کراچی اور لاہور کی فلمی دنیا سے وابستہ رہے، مگر جلد ہی وہ عوامی سیاست، مزدور تحریکوں اور سماجی حقوق کی جدوجہد کا حصہ بن گئے۔ انہوں نے ایوب خان کے دور سے کافی پہلے پہلی بار سیاسی گرفتاری برداشت کی، اور بعد کے تمام ادوار میں آمریت و جبر کے خلاف ان کی آواز سب سے نمایاں رہی۔ ان کی شاعری۔خواہ “دستور” ہو، “ظلمت کو ضیا” ہو یا “سرِ مقتل”۔اپنے سادہ الفاظ، خالص عوامی لہجے اور نڈر موقف کے باعث تحریکوں کی بنیاد بنی۔ فیض احمد فیض نے انہیں بجا طور پر “عوام کا شاعر” کہا، کیونکہ جالب نے کبھی مصلحت کے نام پر اپنی زبان بند نہ کی۔
حبیب جالب پوری زندگی کرائے کے گھروں میں رہے، مگر کسی درباری اعزاز کے لیے اپنے قلم یا ضمیر کی قیمت نہ لگنے دی۔ نظیر اکبرآبادی ان کے محبوب شاعر تھے، اور اُن ہی کی طرح جالب نے بھی عوامی دکھ اور سچائی کو اپنی شاعری کا مرکز بنایا۔ آخری عمر میں وہ جگر اور دل کے عارضوں کا شکار رہے اور 12 مارچ 1993ء کو لاہور میں وفات پا گئے، جہاں میانی صاحب قبرستان میں سپردِ خاک ہوئے۔ ان کے جانے کے بعد اُن کے نام پر سڑکیں اور اعزازات ضرور بنے، مگر ان کی اصل میراث وہ انقلابی لہجہ ہے جس نے نسلوں کو یہ سکھایا کہ “ایسے دستور کو، صبحِ بے نور کو، میں نہیں مانتا!”