خوب آزادئ صحافت ہے
نظم لکھنے پہ بھی قیامت ہے
دعویٰ جمہوریت کا ہے ہر آن
یہ حکومت بھی کیا حکومت ہے
دھاندلی دھونس کی ہے پیداوار
سب کو معلوم یہ حقیقت ہے
خوف کے ذہن و دل پہ سائے ہیں
کس کی عزت یہاں سلامت ہے
کبھی جمہوریت یہاں آئے
یہی جالبؔ ہماری حسرت ہے
حبیب جالب
Khoob azadi-e-sahafat hai
Nazm likhne pe bhi qayamat hai
Da'wa jamhooriyat ka hai har aan
Yeh hukoomat bhi kya hukoomat hai
Dhaandli dhons ki hai paidawaar
Sab ko maloom yeh haqeeqat hai
Khauf ke zehn-o-dil pe saaye hain
Kis ki izzat yahan salamat hai
Kabhi jamhooriyat yahan aaye
Yehi Jalib hamari hasrat hai
حبیب احمد، ادبی دنیا میں حبیب جالب کے نام سے معروف، 24 مارچ 1928ء کو ہوشیارپور کے قصبے میانی افغاناں میں پیدا ہوئے۔ تقسیمِ ہند کے دور میں انہوں نے ابتدائی تعلیم وہیں سے حاصل کی، مگر معاشی مسائل اور سیاسی انتشار نے رسمی تعلیم کا سلسلہ آگے بڑھنے نہ دیا۔ 1947ء میں ہجرت کے بعد وہ پاکستان آ گئے اور لاہور میں مستقل سکونت اختیار کی۔ کم عمری سے عوامی د...
مکمل تعارف پڑھیں