search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
رابطہ
حبیب جالب
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
جمہوریت
اپنی جنگ رہے گی
ماں
میں غزل کہوں تو کیسے کہ جدا ہیں میری راہیں
ممتاز
دستور
اے چاند یہاں نہ نکلا کر
جب کوئی کلی صحن گلستاں میں کھلی ہے
ابھی اے دوست ذوق شاعری ہے وجہ رسوائی
ظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا
مولانا
اٹھا رہا ہے جو فتنا میری زمینوں میں
مجبور عورت دا گیت
زنداناں دے در نہیں کُھلدے ہنجُواں ہاواں نال
جالب سائیں کدی کدائیں چنگی گلّ کہہ جاندا اے
اُچیاں کندھاں والا گھر سی رو لیندے ساں کُھل کے
رات کُلیہنی
دھی کمی دی
ماں بولی
مہتاب صفت لوگ یہاں خاک بسر ہیں
ذرے ہی سہی کوہ سے ٹکرا تو گئے ہم
یوں وہ ظلمت سے رہا دست و گریباں یارو
یہ سوچ کر نہ مائل فریاد ہم ہوئے
یہ جو شب کے ایوانوں میں اک ہلچل اک حشر بپا ہے
یہ اور بات تیری گلی میں نہ آئیں ہم
وہ دیکھنے مجھے آنا تو چاہتا ہوگا
وطن کو کچھ نہیں خطرہ نظام زر ہے خطرے میں
وہی حالات ہیں فقیروں کے
اس رعونت سے وہ جیتے ہیں کہ مرنا ہی نہیں
اس نے جب ہنس کے نمسکار کیا
تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا
ترے ماتھے پہ جب تک بل رہا ہے
شعر سے شاعری سے ڈرتے ہیں
شعر ہوتا ہے اب مہینوں میں
پھر کبھی لوٹ کر نہ آئیں گے
پھر دل سے آ رہی ہے صدا اس گلی میں چل
نہ ڈگمگائے کبھی ہم وفا کے رستے میں
میرؔ و غالبؔ بنے یگانہؔ بنے
لوگ گیتوں کا نگر یاد آیا
کچھ لوگ خیالوں سے چلے جائیں تو سوئیں
خوب آزادئ صحافت ہے
کون بتائے کون سجھائے کون سے دیس سدھار گئے
کم پرانا بہت نیا تھا فراق
کہیں آہ بن کے لب پر ترا نام آ نہ جائے
کبھی تو مہرباں ہو کر بلا لیں
جیون مجھ سے میں جیون سے شرماتا ہوں
جھوٹی خبریں گھڑنے والے جھوٹے شعر سنانے والے
جاگنے والو تا بہ سحر خاموش رہو
اس شہر خرابی میں غم عشق کے مارے
اک شخص با ضمیر مرا یار مصحفیؔ
ہجوم دیکھ کے رستہ نہیں بدلتے ہم
ہم نے دل سے تجھے سدا مانا
فیضؔ اور فیضؔ کا غم بھولنے والا ہے کہیں
دشمنوں نے جو دشمنی کی ہے
دل والو کیوں دل سی دولت یوں بیکار لٹاتے ہو
دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا
دل کی بات لبوں پر لا کر اب تک ہم دکھ سہتے ہیں
دل پر شوق کو پہلو میں دبائے رکھا
درخت سوکھ گئے رک گئے ندی نالے
چور تھا زخموں سے دل زخمی جگر بھی ہو گیا
بھلا بھی دے اسے جو بات ہو گئی پیارے
بٹے رہو گے تو اپنا یوں ہی بہے گا لہو
بہت روشن ہے شام غم ہماری
بڑے بنے تھے جالبؔ صاحب پٹے سڑک کے بیچ
باتیں تو کچھ ایسی ہیں کہ خود سے بھی نہ کی جائیں
اور سب بھول گئے حرف صداقت لکھنا
اپنوں نے وہ رنج دئے ہیں بیگانے یاد آتے ہیں
افسوس تمہیں کار کے شیشے کا ہوا ہے
اب تیری ضرورت بھی بہت کم ہے مری جاں
آگ ہے پھیلی ہوئی کالی گھٹاؤں کی جگہ