حبیب جالب کا کلام
- 01 جمہوریت Jamhooriyat آواز میں دستیاب
- 02 اپنی جنگ رہے گی Apni Jang Rahegi آواز میں دستیاب
- 03 ماں Maa آواز میں دستیاب
- 04 میں غزل کہوں تو کیسے کہ جدا ہیں میری راہیں Main Ghazal Kahoon To Kaise Ke Juda Hain Meri Raahein آواز میں دستیاب
- 05 ممتاز Mumtaz آواز میں دستیاب
- 06 دستور Dastoor آواز میں دستیاب
- 07 اے چاند یہاں نہ نکلا کر Ae Chaand Yahaan Na Nikla Kar آواز میں دستیاب
- 08 جب کوئی کلی صحن گلستاں میں کھلی ہے Jab Koi Kali Sehn-e-Gulistaan Mein Khili Hai آواز میں دستیاب
- 09 ابھی اے دوست ذوق شاعری ہے وجہ رسوائی Abhi Ae Dost Zauq-e-Shaairi Hai Wajah-e-Ruswaayi آواز میں دستیاب
- 10 ظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا Zulmat Ko Ziya Sarsar Ko Saba Bande Ko Khuda Kya Likhna آواز میں دستیاب
- 11 مولانا Maulana آواز میں دستیاب
- 12 اٹھا رہا ہے جو فتنا میری زمینوں میں Utha Raha Hai Jo Fitna Meri Zameenon Mein آواز میں دستیاب
- 13 مجبور عورت دا گیت Majboor Aurat Da Geet آواز میں دستیاب
- 14 زنداناں دے در نہیں کُھلدے ہنجُواں ہاواں نال Zindaanan De Dar Nahin Khulde Hanjuaan Hawaawan Naal آواز میں دستیاب
- 15 جالب سائیں کدی کدائیں چنگی گلّ کہہ جاندا اے Jaleb Saaein Kadi Kadaein Changi Gall Keh Jaanda Ae آواز میں دستیاب
- 16 اُچیاں کندھاں والا گھر سی رو لیندے ساں کُھل کے Uchiyaan Kandhaan Wala Ghar Si Ro Lende Saan Khul Ke آواز میں دستیاب
- 17 رات کُلیہنی Raat Kulehni آواز میں دستیاب
- 18 دھی کمی دی Dhee Kami Di آواز میں دستیاب
- 19 ماں بولی Maan Boli آواز میں دستیاب
- 20 مہتاب صفت لوگ یہاں خاک بسر ہیں Mahtab sifat log yahan khaak basar hain آواز میں دستیاب
- 21 ذرے ہی سہی کوہ سے ٹکرا تو گئے ہم Zarre hi sahi koh se takra to gaye hum آواز میں دستیاب
- 22 یوں وہ ظلمت سے رہا دست و گریباں یارو Yoon woh zulmat se raha dast-o-gareeban yaaro آواز میں دستیاب
- 23 یہ سوچ کر نہ مائل فریاد ہم ہوئے Yeh soch kar na maayil-e-faryaad hum hue آواز میں دستیاب
- 24 یہ جو شب کے ایوانوں میں اک ہلچل اک حشر بپا ہے Yeh jo shab ke aiwanon mein ik halchal ik hashra bapa hai آواز میں دستیاب
- 25 یہ اور بات تیری گلی میں نہ آئیں ہم Yeh aur baat teri gali mein na aayen hum آواز میں دستیاب
- 26 وہ دیکھنے مجھے آنا تو چاہتا ہوگا Woh dekhne mujhe aana to chahta hoga آواز میں دستیاب
- 27 وطن کو کچھ نہیں خطرہ نظام زر ہے خطرے میں Watan ko kuch nahin khatra nizam-e-zar hai khatre mein آواز میں دستیاب
- 28 وہی حالات ہیں فقیروں کے Wohi halaat hain faqiro'n ke آواز میں دستیاب
- 29 اس رعونت سے وہ جیتے ہیں کہ مرنا ہی نہیں Is ra'oonat se woh jeete hain ke marna hi nahin آواز میں دستیاب
- 30 اس نے جب ہنس کے نمسکار کیا Us ne jab hans ke namaskar kiya آواز میں دستیاب
- 31 تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا Tum se pehle woh jo ik shakhs yahan takht nasheen tha آواز میں دستیاب
- 32 ترے ماتھے پہ جب تک بل رہا ہے Tere maathe pe jab tak bal raha hai آواز میں دستیاب
- 33 شعر سے شاعری سے ڈرتے ہیں Sher se shaayari se darte hain آواز میں دستیاب
- 34 شعر ہوتا ہے اب مہینوں میں Sher hota hai ab maheenon mein آواز میں دستیاب
- 35 پھر کبھی لوٹ کر نہ آئیں گے Phir kabhi lauT kar na aayeinge آواز میں دستیاب
- 36 پھر دل سے آ رہی ہے صدا اس گلی میں چل Phir dil se aa rahi hai sada is gali mein chal آواز میں دستیاب
- 37 نہ ڈگمگائے کبھی ہم وفا کے رستے میں Na Dagmagaye kabhi hum wafa ke raste mein آواز میں دستیاب
- 38 میرؔ و غالبؔ بنے یگانہؔ بنے Meer o Ghalib bane Yagana bane آواز میں دستیاب
- 39 لوگ گیتوں کا نگر یاد آیا Log geeto'n ka nagar yaad aaya آواز میں دستیاب
- 40 کچھ لوگ خیالوں سے چلے جائیں تو سوئیں Kuch log khayalon se chale jaayen to soein آواز میں دستیاب
- 41 خوب آزادئ صحافت ہے Khoob azadi-e-sahafat hai آواز میں دستیاب
- 42 کون بتائے کون سجھائے کون سے دیس سدھار گئے Kaun bataye kaun sujaye kaun se des sudhaar gaye آواز میں دستیاب
- 43 کم پرانا بہت نیا تھا فراق Kam purana bahut naya tha Firaaq آواز میں دستیاب
- 44 کہیں آہ بن کے لب پر ترا نام آ نہ جائے Kahin aah ban ke lab par tera naam aa na jaaye آواز میں دستیاب
- 45 کبھی تو مہرباں ہو کر بلا لیں Kabhi to mehrbaan ho kar bula lein آواز میں دستیاب
- 46 جیون مجھ سے میں جیون سے شرماتا ہوں Jeevan mujh se main jeevan se sharmata hoon آواز میں دستیاب
- 47 جھوٹی خبریں گھڑنے والے جھوٹے شعر سنانے والے Jhooti khabrein ghaRne wale jhoote sher sunane wale آواز میں دستیاب
- 48 جاگنے والو تا بہ سحر خاموش رہو Jaagne walo ta ba sahar khamosh raho آواز میں دستیاب
- 49 اس شہر خرابی میں غم عشق کے مارے Is shehr-e-kharabi mein gham-e-ishq ke mare آواز میں دستیاب
- 50 اک شخص با ضمیر مرا یار مصحفیؔ Ik shakhs ba zameer mera yaar Mus'hafi آواز میں دستیاب
- 51 ہجوم دیکھ کے رستہ نہیں بدلتے ہم Hajoom dekh ke rasta nahin badalte hum آواز میں دستیاب
- 52 ہم نے دل سے تجھے سدا مانا Hum ne dil se tujhe sada mana آواز میں دستیاب
- 53 فیضؔ اور فیضؔ کا غم بھولنے والا ہے کہیں Faiz aur Faiz ka gham bhoolne wala hai kahin آواز میں دستیاب
- 54 دشمنوں نے جو دشمنی کی ہے Dushmanon ne jo dushmani ki hai آواز میں دستیاب
- 55 دل والو کیوں دل سی دولت یوں بیکار لٹاتے ہو Dil walo kyun dil si daulat yun bekar lutate ho آواز میں دستیاب
- 56 دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا Dil par jo zakhm hain woh dikhaen kisi ko kya آواز میں دستیاب
- 57 دل کی بات لبوں پر لا کر اب تک ہم دکھ سہتے ہیں Dil ki baat labon par la kar ab tak hum dukh sehte hain آواز میں دستیاب
- 58 دل پر شوق کو پہلو میں دبائے رکھا Dil par shauq ko pehlu mein dabaye rakha آواز میں دستیاب
- 59 درخت سوکھ گئے رک گئے ندی نالے Darakht sookh gaye ruk gaye nadi naale آواز میں دستیاب
- 60 چور تھا زخموں سے دل زخمی جگر بھی ہو گیا Choor tha zakhmon se dil zakhmi jigar bhi ho gaya آواز میں دستیاب
- 61 بھلا بھی دے اسے جو بات ہو گئی پیارے Bhula bhi de use jo baat ho gayi pyare آواز میں دستیاب
- 62 بٹے رہو گے تو اپنا یوں ہی بہے گا لہو Bate raho ge to apna yun hi bahe ga lahu آواز میں دستیاب
- 63 بہت روشن ہے شام غم ہماری Bahut roshan hai sham-e-gham hamari آواز میں دستیاب
- 64 بڑے بنے تھے جالبؔ صاحب پٹے سڑک کے بیچ Bade bane the Jaalib Saahab pite sadak ke beech آواز میں دستیاب
- 65 باتیں تو کچھ ایسی ہیں کہ خود سے بھی نہ کی جائیں Baaten to kuchh aisi hain ke khud se bhi na ki jaayen آواز میں دستیاب
- 66 اور سب بھول گئے حرف صداقت لکھنا Aur sab bhool gaye harf-e-sadaqat likhna آواز میں دستیاب
- 67 اپنوں نے وہ رنج دئے ہیں بیگانے یاد آتے ہیں Apnon ne woh ranj diye hain begaane yaad aate hain آواز میں دستیاب
- 68 افسوس تمہیں کار کے شیشے کا ہوا ہے Afsos tumhein car ke sheeshe ka hua hai آواز میں دستیاب
- 69 اب تیری ضرورت بھی بہت کم ہے مری جاں Ab teri zarurat bhi bahut kam hai meri jaan آواز میں دستیاب
- 70 آگ ہے پھیلی ہوئی کالی گھٹاؤں کی جگہ Aag hai phaili hui kaali ghataon ki jagah آواز میں دستیاب