حبیب جالب — شاعر کی تصویر

وہی حالات ہیں فقیروں کے — حبیب جالب

شاعر

تعارف شاعری

وہی حالات ہیں فقیروں کے

وہی حالات ہیں فقیروں کے
دن پھرے ہیں فقط وزیروں کے
اپنا حلقہ ہے حلقۂ زنجیر
اور حلقے ہیں سب امیروں کے
ہر بلاول ہے دیس کا مقروض
پاؤں ننگے ہیں بے نظیروں کے
وہی اہل وفا کی صورت حال
وارے نیارے ہیں بے ضمیروں کے
سازشیں ہیں وہی خلاف عوام
مشورے ہیں وہی مشیروں کے
بیڑیاں سامراج کی ہیں وہی
وہی دن رات ہیں اسیروں کے

Wohi halaat hain faqiro'n ke

Wohi halaat hain faqiro'n ke
Din phire hain faqat waziro'n ke
Apna halqa hai halqa-e-zanjeer
Aur halqe hain sab amiro'n ke
Har Bilawal hai des ka maqrooz
Paaon nange hain Be-Nazeero'n ke
Wohi ahl-e-wafa ki soorat-e-haal
Waare nyare hain be-zameero'n ke
Saazishen hain wohi khilaf-e-awaam
Mashware hain wohi masheero'n ke
BeiRiyan saamraaj ki hain wohi
Wohi din raat hain aseero'n ke

شاعر کے بارے میں

حبیب جالب

حبیب احمد، ادبی دنیا میں حبیب جالب کے نام سے معروف، 24 مارچ 1928ء کو ہوشیارپور کے قصبے میانی افغاناں میں پیدا ہوئے۔ تقسیمِ ہند کے دور میں انہوں نے ابتدائی تعلیم وہیں سے حاصل کی، مگر معاشی مسائل اور سیاسی انتشار نے رسمی تعلیم کا سلسلہ آگے بڑھنے نہ دیا۔ 1947ء میں ہجرت کے بعد وہ پاکستان آ گئے اور لاہور میں مستقل سکونت اختیار کی۔ کم عمری سے عوامی د...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام