ابو الاثر حفیظ جالندھری (اصل نام: محمد عبدالحفیظ) اردو ادب کے اُن قد آور شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جن کی شناخت صرف ادبی نہیں بلکہ قومی اور تاریخی سطح پر بھی قائم ہے۔ وہ 14 جنوری 1900ء کو جالندھر، پنجاب (برطانوی ہند) میں پیدا ہوئے۔ رسمی تعلیم زیادہ نہ ہو سکی اور وہ صرف ساتویں جماعت تک پڑھ سکے، مگر ان کی اصل تربیت خود مطالعے، فارسی و اردو کلاسیکی ادب اور ذاتی مشاہدے سے ہوئی۔ شاعری سے شغف بچپن ہی سے تھا اور کم عمری میں ہی انہوں نے شعر کہنا شروع کر دیا۔ تقسیمِ ہند کے بعد وہ لاہور میں مستقل سکونت پذیر ہوئے جہاں انہوں نے اپنی بقیہ زندگی گزاری اور ادبی، قومی اور سرکاری حلقوں میں فعال کردار ادا کیا۔
حفیظ جالندھری کی شاعری کا دائرہ نہایت وسیع ہے، جس میں قومی، مذہبی، تاریخی اور تہذیبی موضوعات نمایاں ہیں۔ ان کی سب سے عظیم اور عالمگیر پہچان پاکستان کے قومی ترانے کے خالقِ الفاظ کی حیثیت سے ہے؛ ایک اہم مگر کم معروف حقیقت یہ ہے کہ قومی ترانے کی دھن پہلے سے موجود تھی جسے بعد میں حفیظ جالندھری کے الفاظ سے ہم آہنگ کیا گیا۔ اس کے علاوہ وہ آزاد کشمیر کے قومی ترانے کے بھی خالق تھے اور مسئلۂ کشمیر کے سلسلے میں عملی و نظری سطح پر سرگرم رہے۔ ان کی شہرۂ آفاق تصنیف “شاہنامۂ اسلام” اسلامی تاریخ کو منظوم صورت میں پیش کرنے کی ایک منفرد اور ضخیم کوشش ہے، جب کہ نغمۂ زر اور سوز و ساز جیسی کتابیں بھی ان کے فکری تنوع کی عکاس ہیں۔ ان خدمات کے اعتراف میں انہیں پرائیڈ آف پرفارمنس (1958ء) اور ہلالِ امتیاز جیسے اعلیٰ سرکاری اعزازات سے نوازا گیا۔
حفیظ جالندھری کی زندگی کے کچھ پہلو ایسے بھی ہیں جو عام طور پر کم بیان ہوتے ہیں۔ بہت سے لوگ ان کا اصل نام نہیں جانتے اور نہ ہی یہ کہ انہیں “ابو الاثر” کا لقب دیا گیا تھا۔ اگرچہ ان کی رسمی تعلیم محدود تھی، مگر ان کی علمی گہرائی خود ساختہ مطالعے کا نتیجہ تھی، خاص طور پر فارسی ادب سے ان کی گہری وابستگی نمایاں رہی۔ بعض ناقدین نے ان پر یہ اعتراض بھی کیا کہ وہ 1960ء کی دہائی میں حکومتی و سرکاری نظم کے قریب رہے، جس کے باعث ان کی شاعری پر سیاسی اثرات کی بحث جنم لیتی ہے، تاہم اس اختلاف کے باوجود ان کے قومی کردار اور ادبی قد کا انکار ممکن نہیں۔ 21 دسمبر 1982ء کو لاہور میں ان کا انتقال ہوا؛ ابتدا میں ماڈل ٹاؤن میں تدفین ہوئی، بعد ازاں حکومتِ پاکستان نے ان کی باقیات کو مینارِ پاکستان کے قریب ایک مزار میں منتقل کیا—یوں وہ شاعر جس نے قوم کو آواز دی، اسی مقام کے سائے میں جا سویا جو قومی شناخت کی علامت ہے۔