حمائت علی شاعر

شاعر

تعارف شاعری

تعارف

حمایت علی شاعرؔ اردو ادب کی ایک ہمہ جہت، قد آور اور مؤثر شخصیت تھے جنہوں نے شاعری، نثر، نغمہ نگاری، فلم، ریڈیو، تدریس اور صحافت ہر میدان میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ آپ 14 جولائی 1926ء کو اورنگ‌آباد، دکن (برطانوی ہندوستان) میں پیدا ہوئے۔ آپ کا اصل نام حمایت تراب تھا جبکہ تخلص شاعرؔ اختیار کیا۔ ابتدائی تعلیم اورنگ‌آباد میں حاصل کی، بعد ازاں قیامِ پاکستان کے بعد کراچی آ گئے اور سندھ یونیورسٹی سے ایم اے اردو کیا، جب کہ بعض ذرائع کے مطابق آپ نے پی ایچ ڈی کے لیے بھی تحقیقی مقالہ تحریر کیا۔ علمی ذوق، وسیع مطالعہ اور تخلیقی صلاحیتوں نے بہت کم عرصے میں آپ کو اردو کے ممتاز اہلِ قلم میں شامل کر دیا۔

حمایت علی شاعرؔ نے ادب کے ساتھ ساتھ عملی زندگی میں بھی متنوع شعبوں میں خدمات انجام دیں۔ آپ سندھ یونیورسٹی میں تدریس سے وابستہ رہے، ریڈیو پاکستان کے لیے ادبی اور تخلیقی پروگرام ترتیب دیے اور صحافت و ادارت کے میدان میں بھی کام کیا۔ فلمی دنیا میں آپ نے بطور نغمہ نگار، مکالمہ نگار، ہدایت کار اور فلم ساز نمایاں مقام حاصل کیا اور آنچل، دامن اور لوری جیسی یادگار فلموں سے وابستہ رہے۔ آپ کے فلمی نغمات نے غیر معمولی مقبولیت حاصل کی اور اسی بنا پر آپ کو متعدد نگار ایوارڈز سے نوازا گیا۔ ادب میں آپ کی سب سے منفرد اور یادگار خدمت اردو شاعری میں ثلاثی جیسی نئی صنف کا اجراء ہے، جس نے آپ کو تخلیقی جدت کے علَم برداروں میں ممتاز کر دیا۔

ادبی اعتبار سے حمایت علی شاعرؔ کے شعری مجموعوں میں آگ میں پھول، مٹی کا قرض، تشنگی کا سفر، ہارون کی آواز اور حرف حرف روشنی شامل ہیں، جبکہ آپ کی منظوم خود نوشت آئینہ در آئینہ اردو ادب کا ایک اہم حوالہ سمجھی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ آپ نے نثری کتب اور فلمی نغمات کے مجموعے بھی تحریر کیے۔ آپ کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے آپ کو صدارتی تمغۂ حسنِ کارکردگی سمیت متعدد ملکی و بین الاقوامی اعزازات سے نوازا۔ اردو ادب کا یہ درخشاں ستارہ طویل علالت کے بعد 15/16 جولائی 2019ء کو ٹورنٹو، کینیڈا میں وفات پا گیا، مگر اپنی شاعری، تخلیقی وراثت اور فکری وسعت کے باعث وہ آج بھی اردو ادب کے زندہ حوالوں میں شامل ہے۔