عاشقوں سے ناروا ہے ہے وفائی آپ کی
حد سے بڑھ جائے نہ شان کج ادائی آپ کی
آرزو کے دل پہ آئیں گی نہ کیا کیا آفتیں
در پیے انکار ہے ناآشنائی آپ کی
خوبرو ہیں آپ مانا ہم نے پھر بھی اس قدر
دیکھیے اچھی نہیں ہے خود ستائی آپ کی
رہ گئی اہل ہوس میں یادگار حسن و عشق
ناز برداری ہماری دلربائی آپ کی
مجھ سے اکثر یہ کہا کرتا ہے وہ مخمور ناز
دیکھیے نبھتی ہے کب تک پارسائی آپ کی
اک ہمیں تو کچھ نہیں ہیں آپ کے طاعت گزار
تابع فرماں ہوئی ساری خدائی آپ کی
کیسے دیکھے کون دیکھے آپ کا نور جمال
جان جب ٹھہری ہوئی ہو رونمائی آپ کی
آپ کو آتا رہا میرے ستانے کا خیال
صلح سے اچھی رہی مجھ کو لڑائی آپ کی
برق کا اکثر یہ کہنا یاد آتا ہے مجھے
تنکے چنوانے لگی ہم سے جدائی آپ کی
عرض کر کے حال دل کس درجہ ہیں محجوب ہم
دیکھ کر غصے میں صورت تمتمائی آپ کی
شاہ جیلاں کے سوا مشکل کشا کے واسطے
کون کرتا اور حسرتؔ رہنمائی آپ کی
حسرت موہانی