حسرت موہانی، جن کا اصل نام سید فضل الحسن تھا، یکم جنوری 1875 کو قصبہ موہان (اتر پردیش) میں پیدا ہوئے۔ علیگڑھ سے بی اے کرنے کے بعد وہ سر سید کی علمی و اصلاحی تحریک سے گہرا اثر لیتے ہوئے اردو صحافت، سیاست اور جدید قومی شعور سے وابستہ ہوئے۔ سادگی، دیانت اور علمی وقار ان کی شخصیت کے بنیادی اوصاف تھے جنہوں نے انہیں نہ صرف ادب میں بلکہ تحریکِ آزادی کے رہنماؤں میں بھی ممتاز مقام عطا کیا۔
سیاسی میدان میں حسرت موہانی کا کردار نہایت جرات مندانہ تھا۔ رسالہ ’’اردوئے معلیٰ‘‘ کے اجرا سے لے کر ’’انقلاب زندہ باد‘‘ کے تاریخی نعرے تک، ہر جگہ ان کی آواز آزادی و انصاف کے لیے بلند ہوئی۔ 1907 میں بغاوت کے الزام میں قید و بند کی سختیاں بھی جھیلی، مگر ان کی درویشانہ طبیعت، مذہبی پابندی اور اصول پسندی نے انہیں ہر محاذ پر ثابت قدم رکھا۔ وہ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے بانی ارکان میں شامل رہے مگر دین و تقویٰ کی پاسداری ان کی بنیادی شناخت رہی—یہ منفرد امتزاج ان کی شخصیت کو اور بھی نمایاں کرتا ہے۔
شاعری کے میدان میں حسرت موہانی کو غزل کے ’’سہلِ ممتنع‘‘ کا امام کہا جاتا ہے۔ ان کی غزلیں لطافت، گہری معنویت، سوز و گداز اور صوفیانہ رنگ کے باعث مستقل ادبی مقام رکھتی ہیں۔ ’’کلیاتِ حسرت‘‘ ان کی شاعرانہ میراث کا معتبر حوالہ ہے، جب کہ ’’چپکے چپکے رات دن‘‘ جیسی شہرۂ آفاق غزل اردو ادب کی لازوال نعمتوں میں شمار ہوتی ہے۔ سیاسی ہنگاموں، قید و مشقت اور مالی تنگی کے باوجود ان کا ادبی سفر کبھی رکا نہیں، جو ان کی خود سپردگی، عشقِ فن اور اعلیٰ کردار کی روشن دلیل ہے۔