حسرت موہانی

شاعر

تعارف شاعری

گم گشتہ کسی خواب کے منظر سے نکل کر

گم گشتہ کسی خواب کے منظر سے نکل کر
غزلوں میں ڈھلے لفظ سمندر سے نکل کر
کر دیتی ہے آباد مری آنکھوں کی دنیا
حسرت تری تصویر کے اندر سے نکل کر
رشتوں کی تمازت سے ہوا جاتا ہوں صحرا
جاؤں تو کہاں جاؤں مقدر سے نکل کر
کہتے ہیں تو کہتے ہیں یہ تلوار کے آنسو
بنتے نہیں غازی کبھی لشکر سے نکل کر
یہ جوگ تھا یا ہجر کی قوت تھی یا جادو
اک آہ غزل ہوگئی اندر سے نکل کر
سیراب مجھے کر گئی حیرت ہے مجھے بھی
اک نفرتِ دل یار کے خنجر سے نکل کر
عزت بھی گئی مان گیا ٹوٹا بھروسا
آواز پہ اے عشق تری گھر سے نکل کر
دیوار کو سیلن زدہ کرتا رہا نوحہ
لٹکی ہوئی تصویرِ ستمگر سے نکل کر
بک جائیں گے اک روز یہ تقدیر کے آنسو
اٹھ باندھ کمر دوڑ لگا گھر سے نکل کر
یہ موجِ نسیمی ہے یہ ہو جائے گی تصویر
دیکھو گے اگر سوچ کے محور سے نکل کر

حسرت موہانی