search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
رابطہ
حسرت موہانی
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
بت بے درد کا غم مونس ہجراں نکلا
کیا تم کو علاج دل شیدا نہیں آتا
سرگرمِ ناز آپ کی شانِ جفا ہے کیا
پیرو مسلک تسلیم و رضا ہوتے ہیں
گم گشتہ کسی خواب کے منظر سے نکل کر
تاباں جو نور حسن بہ سیمائے عشق ہے
جو دور سے بھی نظر تجھ پہ یار ہم کرتے
مجھ کو خبر نہیں کہ مِرا مرتبہ ہے کیا
روگ دل کو لگا گئیں آنکھیں
محبت کے عوض رہنے لگے ہر دم خفا مجھ سے
آپ نے قدر کچھ نہ کی دل کی
چاہت مری چاہت ہی نہیں آپ کے نزدیک
ہجوم بے کسی کی وجہ لطف بیکراں پایا
اس بت کے پجاری ہیں مسلمان ہزاروں
عاشقوں سے ناروا ہے ہے وفائی آپ کی
آشنا ہو کر نظر نا آشنا کرنے لگے
چُپ ہیں کیوں آپ، مِرے غم سے جو دِلگیر نہیں
تجھ کو پاسِ وفا ذرا نہ ہوا
دیکھنا بھی تو انہیں دور سے دیکھا کرنا
روشن جمال یار سے ہے انجمن تمام
نگاہ یار جسے آشنائے راز کرے
خوب رویوں سے یاریاں نہ گئیں
محروم طرب ہے دل دلگیر ابھی تک
چھپ کے اس نے جو خود نمائی کی
چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے
ہے مشق سخن جاری چکی کی مشقت بھی
اور تو پاس مرے ہجر میں کیا رکھا ہے
بھلاتا لاکھ ہوں لیکن برابر یاد آتے ہیں
درد دل کی انہیں خبر نہ ہوئی
وہ چپ ہو گئے مجھ سے کیا کہتے کہتے