افتخارعارف

شاعر

تعارف شاعری

تعارف

اردو کے عہدِ حاضر کے ممتاز شاعر افتخار حسین عارف 21 مارچ 1943 کو لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم انہوں نے وہاں کے روایتی علمی ماحول۔فرنگی محل کے مدارس اور جوبلی کالج سے حاصل کی، پھر لکھنؤ یونیورسٹی سے ایم اے کیا جہاں اردو و انگریزی کے ساتھ سنسکرت بھی پڑھی۔ علم و تہذیب سے لبریز لکھنؤ کی فضا نے ان کے ادبی ذوق کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا، اور یہی تربیت آگے چل کر ان کی شاعری کے اس گہرے، تہہ دار اور علامتی اسلوب میں جھلکتی ہے جس نے انہیں عصرِ حاضر کے بڑے شعرا میں نمایاں کیا۔

سنہ 1965 میں وہ پاکستان ہجرت کر گئے اور کراچی میں سکونت اختیار کی، جہاں ان کا پیشہ ورانہ سفر ریڈیو پاکستان سے بطور نیوزکاسٹر شروع ہوا۔ بعد ازاں وہ پاکستان ٹیلی ویژن کے کراچی سینٹر سے وابستہ ہوئے اور معروف پروگرام “کسوٹی” کے ذریعے ملک گیر شہرت حاصل کی۔ ایک طویل عرصہ لندن میں اردو مرکز سے منسلک رہ کر انہوں نے اردو زبان کے فروغ کے لیے اہم خدمات انجام دیں، اور وطن واپسی پر قومی زبان اتھارٹی اور پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز جیسے اداروں کی سربراہی کی۔ ان کی تصانیف مہرِ دو نیم، حرفِ باریاب، جہاںِ معلوم اور کتابِ دل و دنیا نے انہیں پورے اردو ادب میں معتبر مقام عطا کیا۔

افتخار عارف کی شاعری روایت اور جدید حسیت کا حسین امتزاج ہے۔ ان کے اشعار میں عشق، تاریخ، تقدیر، اجتماعی دکھ، اور روحانی معنویت ایک ساتھ جلوہ گر نظر آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فیض کے بعد کے عہد میں انہیں سب سے نمایاں اور مؤثر صدائے شاعری کہا جاتا ہے۔ ان کی نظموں اور غزلوں کا متعدد عالمی زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے، جبکہ حکومتِ پاکستان نے انہیں ہلالِ امتیاز، ستارۂ امتیاز اور پرائڈ آف پرفارمنس جیسے اعلیٰ اعزازات سے نوازا۔ کم بولنے، گہرا سوچنے اور کلاسیکی رمزیت کو جدید درد کے ساتھ برتنے کے باعث وہ آج بھی اردو قارئین کے درمیان ایک منفرد، معتبر اور ہمہ جہت شاعر کی حیثیت رکھتے ہیں۔