مقدر ہو چکا ہے بے در و دیوار رہنا
کہیں طے پا رہا ہے شہر کا مسمار رہنا
نمودِ خواب کے اور انہدامِ خواب کے بیچ
قیامت مرحلہ ہے دل کا ناہموار رہنا
دلوں کے درمیاں دوری کے دن ہیں اور ہم کو
اسی موسم میں تنہا برسرِ پیکار رہنا
اندھیری رات اور شورِ سگان کوئے دُشنام
اور ایسے میں کسی اک آنکھ کا بیدار رہنا
تماشا کرنے والے آ رہے ہیں جوق در جوق
گروہ ِپابجولاں! رقص کو تیار رہنا
ہوائے کوئے قاتل بے ادب ہونے لگی ہے
چراغِ جادهٔ صدق و صفا ہشیار رہنا
یہ دشواری تو آسانی کا خمیازہ ہے ورنہ
بہت ہی سہل تھا ہم کو بہت دشوار رہنا
ادھر کچھ دن سے اس بستی کو راس آنے لگا ہے
ہم آشفتہ سروں کے در پے آزار رہنا
افتخارعارف