search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
رابطہ
افتخارعارف
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
جاہ و جلال دام و درہم اور کتنی دیر
نہ مال و زر ہے نہ جاہ و حشم ہمارا ہے
اب اس میں کاوش کوئی نہ کچھ اہتمام میرا
محبت کی ایک نظم
مقدر ہو چکا ہے بے در و دیوار رہنا
کربلا کی خاک پر کیا آدمی سجدے میں ہے
جو ہم نہیں تھے تو پھر کون تھا سرِ بازار
انہیں میں جیتے انہیں بستیوں میں مر رہتے
یوں تو نہیں کہ دل میں اب کوئی نئی دعا نہیں
خواب دیکھنے والی آنکھیں پتھر ہوں گی تب سوچیں گے
اپنے آقا کے مدینے کی طرف دیکھتے ہیں
خواب دیرینہ سے رخصت کا سبب پوچھتے ہیں
تھکن تو اگلے سفر کے لیے بہانہ تھا
یہ دُنیا اک سور کے گوشت کی ہڈی کی صورت
آسمانوں پر نظر کر انجم و مہتاب دیکھ
کوچ
دیار نور میں تیرہ شبوں کا ساتھی ہو
ستاروں سے بھرا یہ آسماں کیسا لگے گا
ذرا سی دیر کو آئے تھے خواب آنکھوں میں
ہمیں خبر تھی کہ یہ درد اب تھمے گا نہیں
کچھ دیر پہلے نیند سے
خواب کی طرح بکھر جانے کو جی چاہتا ہے
یہ معجزہ بھی کسی کی دعا کا لگتا ہے
عذاب وحشت جاں کا صلہ نہ مانگے کوئی
حامی بھی نہ تھے منکر غالبؔ بھی نہیں تھے
جیسا ہوں ویسا کیوں ہوں سمجھا سکتا تھا میں
مرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کر دے
سمجھ رہے ہیں مگر بولنے کا یارا نہیں
شہر گل کے خس و خاشاک سے خوف آتا ہے
بارہواں کھلاڑی