افتخارعارف

شاعر

تعارف شاعری

یہ دُنیا اک سور کے گوشت کی ہڈی کی صورت

یہ دُنیا اک سور کے گوشت کی ہڈی کی صورت
کوڑھیوں کے ہاتھ میں ہے
اور میں نان و نمک کی جستجو میں دربدر قریہ بہ قریہ مارا مارا پھر رہا ہوں
ذرا سی دیر کی جھوٹی فضیلت کے لیے
ٹھوکر پہ ٹھوکر کھا رہا ہوں ہر قدم پر منزل عز و شرف سے گر رہا ہوں
اور مری انگشتری پر یا علیؑ لکھا ہوا ہے
مگر انگشتری پر یا علیؑ کندہ کرا لینے سے کیا ہوگا کہ دل تو
مرحبوں کی دسترس میں ہے
مسلسل نرغہ ِ حرص و ہوس میں ہے
(عجب عالم ہے آنکھیں دیکھتی ہیں اور دل سینوں میں اندھے ہو چکے ہیں)
اور ایسے میں کوئی حرفِ دُعا اک خواب بُنتا ہے
کبھی سلمان ؓ آتے ہیں
کبھی بوذرؓ کبھی میثمؓ کبھی قنبر ؓ میری ڈھارس بندھاتے ہیں
کمیلؑ آتے ہیں کہتے ہیں
پکارو افتخار عارف پکارو
اپنے مولا کو پکارو اپنے مولا کے وسیلے سے پکارو
اُجیب دعوت الداع کا دعوی کرنے والے کو پکارو
یہ مشکل بھی کوئی مشکل ہے دل چھوٹا نہیں کرتے
کریم اپنے غلاموں کو کبھی تنہا نہیں کرتے کبھی رسوا نہیں کرتے

افتخارعارف