انعام اللہ خاں یقین

شاعر

تعارف شاعری

ارے صیاد اس بیداد پر بیداد کیا کیجے

ارے صیاد اس بیداد پر بیداد کیا کیجے
شکار ناتواں مجھ سے کے تیں آزاد کیا کیجے
اٹھانے کا نہیں میں ہاتھ جوں گل اس گریباں سے
اگر بو کی طرح جاوے گا جی برباد کیا کیجے
بہار آئی ہے اور ہم گلستاں میں جا نہیں سکتے
خدا کے واسطے تو ہی کہہ اے صیاد کیا کیجے
ٹلا گر بے ستوں تو کیا ہوا خسرو نہیں ٹلتا
بڑا پتھر ہے چھاتی پر ترے فرہاد کیا کیجے
جفا پر دلبروں کے صبر کرنا ہی مناسب ہے
یقیںؔ دعویٰ وفا کا کر کے اب فریاد کیا کیجے

انعام اللہ خاں یقین