search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
ہمارے متعلق
رابطہ کیجیے
انعام اللہ خاں یقین
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
بت کرے سجدہ ترے حسنِ خداداد کو دیکھ
نہیں ہوں منکر مۓ ، اہل مے خانے سے کہہ دیجو
گریباں پھاڑ ڈالے رشک سے ہر گل بدن اپنا
اتنا کوئی جہاں میں کبھو بے وفا نہ تھا
ان پری زاد جوانوں نے کیا پیر مجھے
ہے ترے داغ سے تر سینۂ سوزاں میرا
کیا قیامت ہے بتوں کی بزم میں جانے کا حظ
اس گل سے کچھ حجاب ہمیں درمیاں نہ تھا
خواب میں کس طرح دیکھوں تجھ کو بے خوابی کے ساتھ
کر سکے کیا عقل میرے غم کے جانے کا علاج
دکھ تو دیتا ہے کروں میں تجھ کو حیراں تو سہی
اگر دینا ہو دل کی داد جتنا اس کا جی چاہے
دن جنوں کے آن پہنچے ہوشیاراں الوداع
اس قدر غرق لہو میں یہ دل زار نہ تھا
وہ کون دل ہے جہاں جلوہ گر وہ نور نہیں
کیا دل ہے اگر جلوہ گہہ یار نہ ہووے
مفت کب آزاد کرتی ہے گرفتاری مجھے
شہر میں تھا نہ ترے حسن کا یہ شور کبھو
ٹک اک انصاف کر اتنی بھی کرتا ہے جفا کوئی
گریباں پھاڑتے ہیں دیکھ خوبان چمن کیوں کر
عشق تیرے سے لگاوے نہ خدا عار مجھے
ارے صیاد اس بیداد پر بیداد کیا کیجے
کرتے ہیں اپنے بال دکھا مبتلا مجھے
دل نہیں کھنچتا ہے بن مجنوں بیاباں کی طرف
کم نہیں ہم بوجھتے کعبہ سے میخانے کے تئیں
محبت میں مروت کی حکایت کے سخن خالی
دوانہ مجھ سا کب جیتا ہے کیوں تدبیر کرتے ہیں
کوئی میداں نہ جیتا عشق کا فرہاد کے آگے
بہار آئی ہے کیا کیا چاک جیب پیرہن کرتے
جب دیکھتا ہوں تنہا تجھ کو سجن چمن میں
یہ وہ آنسو ہیں جن سے زہرہ آتش ناک ہو جاوے
منہ پہ کھاتا ہے یہ اس طرح سے تلوار کہ بس
یہ سینہ عشق سے محروم درد و داغ نہیں
کار دیں اس بت کے ہاتھوں ہائے ابتر ہو گیا
سریر سلطنت سے آستان یار بہتر تھا
کب سنے زنجیر مجھ مجروح دیوانے کی عرض
پڑ گئی دل میں ترے تشریف فرمانے میں دھوم
عمر آخر ہے جنوں کر لوں بہاراں پھر کہاں
چمن میں مجھ سے دیوانے کے لے جانے سے کیا حاصل
شب ہجراں کی وحشت کو تو اے بیداد کیا جانے
حق مجھے باطل آشنا نہ کرے
گئے سب بھول شکوے دیکھ روئے یار کیا کہیے
مصر میں حسن کی وہ گرمئ بازار کہاں
اگرچہ عشق میں آفت ہے اور بلا بھی ہے
تیری آنکھوں کی کیفیت کو میخانے سے کیا نسبت
نہیں معلوم اب کی سال مے خانے پہ کیا گزرا