دل کی شیرینی باتوں میں ہوتی تھی
پھر تاثیر مناجاتوں میں ہوتی تھی
کیا دن تھے جب کنجی خوشی خزانے کی
اپنے دھول بھرے ہاتھوں میں ہوتی تھی
بچپن میں میٹھی روٹی جیسی خوشبو
ماں کی بھید بھری باتوں میں ہوتی تھی
کچے رنگوں کا آنچل اور بھیگے خواب
کتنی مشکل برساتوں میں ہوتی تھی
یاں تو اپنی ذات کے غم میں رہتے ہیں
دکھ سے جنگ مضافاتوں میں ہوتی تھی
عشرت آفریں