جمیل الدین عالی، جن کا اصل نام میرزا جمیل الدین احمد خان تھا، اردو کے ممتاز شاعر، نغمہ نگار، کالم نگار، دانشور اور قومی شعور کے علمبردار تھے۔ وہ 20 جنوری 1925ء کو دہلی میں ایک معزز اور ادبی خانوادے میں پیدا ہوئے۔ ان کے دادا نواب علا الدین احمد، مرزا غالب کے ہم عصر اور شاگرد تھے جبکہ والد سر امیر الدین احمد خان بھی علم و ادب سے وابستہ شخصیت تھے۔ عالی نے اینگلو عربک کالج، دہلی سے معاشیات میں بی اے کیا اور قیامِ پاکستان سے قبل وزارتِ تجارت میں خدمات انجام دیں۔ 1947ء میں پاکستان ہجرت کے بعد انہوں نے سی ایس ایس امتحان پاس کیا اور انکم ٹیکس افسر کے طور پر سرکاری ملازمت اختیار کی، بعد ازاں نیشنل بینک آف پاکستان میں مختلف اعلیٰ مناصب پر فائز رہے اور بطور سینئر ایگزیکٹو نائب صدر 1990ء میں ریٹائر ہوئے۔
ادبی اعتبار سے جمیل الدین عالی ایک ہمہ جہت شخصیت تھے جنہوں نے غزل، نظم، دوہا، طویل نظم، سفرنامہ، مضمون اور کالم نگاری میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ وہ اردو زبان کے فروغ کے لیے نصف صدی سے زائد عرصہ سرگرم رہے اور انجمنِ ترقیِ اردو پاکستان سے طویل وابستگی کے دوران سیکریٹری اور ایگزیکٹو مشیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں، جبکہ اردو ڈکشنری بورڈ کے چیئرمین بھی رہے۔ انہوں نے پاکستان رائٹرز گلڈ کی سرگرمیوں میں بھی بنیادی کردار ادا کیا۔ ان کے قومی نغمات جیسے “جیوے جیوے پاکستان”، “اے وطن کے سجیلے جوانوں”، “میرا پیغام پاکستان” اور دیگر نغمات نے خصوصاً 1965ء کی جنگ کے دوران قوم کے حوصلے بلند کیے اور انہیں عوامی سطح پر غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی۔
جمیل الدین عالی کی ادبی و قومی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے انہیں صدر کا تمغۂ حسنِ کارکردگی (1991ء)، ہلالِ امتیاز (2004ء) اور کمالِ فنون ایوارڈ (2006ء) سے نوازا، جبکہ جامعہ کراچی نے انہیں ڈی لِٹ کی اعزازی ڈگری عطا کی۔ ان کی ذاتی زندگی سادہ مگر باوقار رہی؛ ان کی شادی 1944ء میں طیبہ بانو سے ہوئی اور وہ تین بیٹوں اور دو بیٹیوں کے والد تھے۔ 23 نومبر 2015ء کو کراچی میں ان کا انتقال ہوا اور وہ بیزرتا لائنز میں آسودۂ خاک ہوئے۔ جمیل الدین عالی اردو ادب، قومی شاعری اور فکری روایت میں ایک ایسے درخشاں نام کے طور پر ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے جس نے زبان، ادب اور وطن سے محبت کو زندگی بھر اپنا اوڑھنا بچھونا بنائے رکھا۔