search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
رابطہ
جون ایلیا
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
زمانے بھر کو اداس کر کے
زندگی کیا ہے اک کہانی ہے
ضبط کر کے ہنسی کو بھول گیا
اس کے پہلو سے لگ کے چلتے ہیں
عمر گزرے گی امتحان میں کیا
تو بھی چپ ہے میں بھی چپ ہوں یہ کیسی تنہائی ہے
تمہارا ہجر منا لوں اگر اجازت ہو
ٹھیک ہے خود کو ہم بدلتے ہیں
تنگ آغوش میں آباد کروں گا تجھ کو
سینہ دہک رہا ہو تو کیا چپ رہے کوئی
شرمندگی ہے ہم کو بہت ہم ملے تمہیں
سر ہی اب پھوڑیے ندامت میں
سارے رشتے تباہ کر آیا
روح پیاسی کہاں سے آتی ہے
نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم
کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے
کس سے اظہار مدعا کیجے
خوب ہے شوق کا یہ پہلو بھی
کام کی بات میں نے کی ہی نہیں
جز گماں اور تھا ہی کیا میرا
جو ہوا جونؔ وہ ہوا بھی نہیں
جی ہی جی میں وہ جل رہی ہوگی
اک ہنر ہے جو کر گیا ہوں میں
ایذا دہی کی داد جو پاتا رہا ہوں میں
ہر دھڑکن ہیجانی تھی ہر خاموشی طوفانی تھی
ہم تو جیسے وہاں کے تھے ہی نہیں
ہم جی رہے ہیں کوئی بہانہ کیے بغیر
حالت حال کے سبب حالت حال ہی گئی
گھر سے ہم گھر تلک گئے ہوں گے
گاہے گاہے بس اب یہی ہو کیا
ایک ہی مژدہ صبح لاتی ہے
دل نے وفا کے نام پر کار وفا نہیں کیا
دل کی تکلیف کم نہیں کرتے
دل جو ہے آگ لگا دوں اس کو
چلو باد بہاری جا رہی ہے
بے قراری سی بے قراری ہے
بے دلی کیا یوں ہی دن گزر جائیں گے
بہت دل کو کشادہ کر لیا کیا
بڑا احسان ہم فرما رہے ہیں
اپنے سب یار کام کر رہے ہیں
اپنا خاکہ لگتا ہوں
عیش امید ہی سے خطرہ ہے
اے صبح میں اب کہاں رہا ہوں
ابھی اک شور سا اٹھا ہے کہیں
ابھی فرمان آیا ہے وہاں سے
اب وہ گھر اک ویرانہ تھا بس ویرانہ زندہ تھا
اب کسی سے مرا حساب نہیں
آپ اپنا غبار تھے ہم تو
آخری بار آہ کر لی ہے
آج لب گہر فشاں آپ نے وا نہیں کیا
آدمی وقت پر گیا ہوگا