رنگ باد صبا میں بھرتا ہے
میرا اک زخم شام کرتا ہے
سب یہی مجھ سے پوچھتے ہیں کہ تو
کیوں سدھارے نہیں سدھرتا ہے
شاہراہوں سے روز شام و سحر
ایک انبوہ کیوں گزرتا ہے
آئینے! تیرے سامنے وہ شخص
اب بھلا کیوں نہیں سنورتا ہے
ایلیا جون کچھ نہیں کرتا
صرف خوشبو میں رنگ بھرتا ہے
جون ایلیا