جاوید اختر

شاعر

تعارف شاعری

آپ سے مل کے ہم کچھ بدل سے گئے شعر پڑھنے لگے گنگنانے لگے

آپ سے مل کے ہم کچھ بدل سے گئے شعر پڑھنے لگے گنگنانے لگے
پہلے مشہور تھی اپنی سنجیدگی اب تو جب دیکھیے مسکرانے لگے
ہم کو لوگوں سے ملنے کا کب شوق تھا محفل آرائی کا کب ہمیں ذوق تھا
آپ کے واسطے ہم نے یہ بھی کیا ملنے جلنے لگے آنے جانے لگے
ہم نے جب آپ کی دیکھیں دلچسپیاں آگئیں چند ہم میں بھی تبدیلیاں
اک مصور سے بھی ہو گئی دوستی اور غزلیں بھی سننے سنانے لگے
آپ کے بارے میں پوچھ بیٹھا کوئی کیا کہیں ہم سے کیا بد حواسی ہوئی
کہنے والی جو تھی بات ہو نہ سکی بات جو تھی چھپانی بتانے لگے
عشق بے گھر کرے عشق بے در کرے عشق کا سچ ہے کوئی ٹھکانا نہیں
ہم جو کل تک ٹھکانے کے تھے آدمی آپ سے مل کے کیسے ٹھکانے لگے

جاوید اختر