سچ تو یہ ہے قصور اپنا ہے
چاند کو چھونے کی تمنا کی
آسماں کو زمین پر مانگا
پھول چاہا کہ پتھروں پہ کھلے
کانٹوں میں کی تلاش خوشبو کی
آگ سے مانگتے رہے ٹھنڈک
خواب جو دیکھا
چاہا سچ ہو جائے
اس کی ہم کو سزا تو ملنی تھی
جاوید اختر
Sach to ye hai qasoor apna hai
Chand ko chhoone ki tamanna ki
Aasmaan ko zameen par maanga
Phool chaha ke pattharon pe khule
Kaanton mein ki talaash khushboo ki
Aag se maangte rahe thandak
Khwab jo dekha
Chaha sach ho jaaye
Is ki hum ko saza to milni thi
جاوید اختر برصغیر کے اُن ممتاز ادیبوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے شاعری، نغمہ نگاری اور فلمی کہانی نویسی کے میدان میں غیر معمولی مقام حاصل کیا۔ وہ 17 جنوری 1945ء کو گوالیار میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد جان نثار اختر نامور شاعر اور فلمی نغمہ نگار تھے جبکہ والدہ صفیہ اختر ادبی ذوق رکھنے والی مصنفہ تھیں۔ ان کے دادا مضطر خیرآبادی بھی اپنے عہد کے معروف ش...
مکمل تعارف پڑھیں