خواب کے گاؤں میں پلے ہیں ہم
پانی چھلنی میں لے چلے ہیں ہم
چھاچھ پھونکیں کہ اپنے بچپن میں
دودھ سے کس طرح جلے ہیں ہم
خود ہیں اپنے سفر کی دشواری
اپنے پیروں کے آبلے ہیں ہم
تو تو مت کہہ ہمیں برا دنیا
تو نے ڈھالا ہے اور ڈھلے ہیں ہم
کیوں ہیں کب تک ہیں کس کی خاطر ہیں
بڑے سنجیدہ مسئلے ہیں ہم
جاوید اختر
Khwab ke gaaon mein pale hain hum
Pani chhalni mein le chale hain hum
Chhachh phoonkein ke apne bachpan mein
Doodh se kis tarah jale hain hum
Khud hain apne safar ki dushwari
Apne pairoon ke aable hain hum
Tu to mat keh humein bura duniya
Tu ne dhala hai aur dhale hain hum
Kyun hain kab tak hain kis ki khatir hain
Bade sanjeeda masle hain hum
جاوید اختر برصغیر کے اُن ممتاز ادیبوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے شاعری، نغمہ نگاری اور فلمی کہانی نویسی کے میدان میں غیر معمولی مقام حاصل کیا۔ وہ 17 جنوری 1945ء کو گوالیار میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد جان نثار اختر نامور شاعر اور فلمی نغمہ نگار تھے جبکہ والدہ صفیہ اختر ادبی ذوق رکھنے والی مصنفہ تھیں۔ ان کے دادا مضطر خیرآبادی بھی اپنے عہد کے معروف ش...
مکمل تعارف پڑھیں