میں پا سکا نہ کبھی اس خلش سے چھٹکارا
وہ مجھ سے جیت بھی سکتا تھا جانے کیوں ہارا
برس کے کھل گئے آنسو نتھر گئی ہے فضا
چمک رہا ہے سر شام درد کا تارا
کسی کی آنکھ سے ٹپکا تھا اک امانت ہے
مری ہتھیلی پہ رکھا ہوا یہ انگارا
جو پر سمیٹے تو اک شاخ بھی نہیں پائی
کھلے تھے پر تو مرا آسمان تھا سارا
وہ سانپ چھوڑ دے ڈسنا یہ میں بھی کہتا ہوں
مگر نہ چھوڑیں گے لوگ اس کو گر نہ پھنکارا
جاوید اختر
Main paa saka na kabhi us khalish se chhuttkara
Woh mujh se jeet bhi sakta tha jaane kyun haara
Baras ke khul gaye aansoo, nithar gai hai fiza
Chamak raha hai sar-e-shaam dard ka taara
Kisi ki aankh se tapka tha ek amanat hai
Meri hatheli pe rakha hua yeh angaara
Jo par samete to ek shaakh bhi nahin paai
Khule the par to mera aasman tha saara
Woh saamp chhod de dasna yeh main bhi kehta hoon
Magar na chhodenge log us ko gar na phunkara
جاوید اختر برصغیر کے اُن ممتاز ادیبوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے شاعری، نغمہ نگاری اور فلمی کہانی نویسی کے میدان میں غیر معمولی مقام حاصل کیا۔ وہ 17 جنوری 1945ء کو گوالیار میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد جان نثار اختر نامور شاعر اور فلمی نغمہ نگار تھے جبکہ والدہ صفیہ اختر ادبی ذوق رکھنے والی مصنفہ تھیں۔ ان کے دادا مضطر خیرآبادی بھی اپنے عہد کے معروف ش...
مکمل تعارف پڑھیں