جواد شیخ

شاعر

تعارف شاعری

ہاتھ میں کیا نہیں کہ تم سے کہیں

ہاتھ میں کیا نہیں کہ تم سے کہیں
ہم کو زیبا نہیں کہ تم سے کہیں
دل کسی وجہ سے دکھی ہے مگر
کچھ بھی ایسا نہیں کہ تم سے کہیں
ذہن الجھا ہوا ہے کچھ دن سے
لیکن اتنا نہیں کہ تم سے کہیں
ورنہ اب تک نہ کہہ چکے ہوتے
کبھی چاہا نہیں کہ تم سے کہیں
خامشی اشک روگ مرگ فرار
ایک رستہ نہیں کہ تم سے کہیں
تم کو آتا نہیں کہ ہم سے کہو
ہم سے ہوتا نہیں کہ تم سے کہیں
کہے دیتے ہیں دل کی بات چلو
خیر بنتا نہیں کہ تم سے کہیں
یوںہی اک کیفیت سی ہے جوادؔ
کوئی قصہ نہیں کہ تم سے کہیں

جواد شیخ