سنبھل نہیں گئی حضرت درست ہو گئی ہے
بگڑ کے اور بھی حالت درست ہو گئی ہے
عجیب بات سنی ہے خدا معاف کرے
کہ آنجناب کی صحبت درست ہو گئی ہے
خراب شے ہوا کرتی تھی کوئی دن پہلے
تجھے ملی ہے تو شہرت درست ہو گئی ہے
نجانے کون مخاطب ہے ان دنوں مجھ سے
کوئی بھی ہو مری لکنت درست ہو گئی ہے
غلط تو خیر محبت میں اور کیا ہوتا
مگر یہ ہے کہ طبیعت درست ہو گئی ہے
ابھی گیا ہے مجھے کوستے ہوئے کوئی
کہ اس تئیں مری نیت درست ہو گئی ہے
کھلا کہ اس سے بچھڑنے کی دیر تھی جوادؔ
مری اک اور بھی عادت درست ہو گئی ہے
جواد شیخ