شاعر

جگر مراد آبادی

Jigar Moradabadi

50
منتخب کلام
50
آواز میں کلام
1
محفلیں
کلام پڑھیں

تعارف

جگر مرادآبادی اردو کے ممتاز کلاسیکی غزل نگار اور صوفی شاعر تھے، جن کا اصل نام علی سکندر تھا اور تخلص جگر مرادآبادی تھا۔ ان کی پیدائش چھ اپریل انیس سو نوے کو مرادآباد، اتر پردیش میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم میں انہوں نے عربی، فارسی اور اردو کا مطالعہ کیا اور مختلف شہروں میں قیام کے دوران اپنی ادبی صلاحیتوں کو پروان چڑھایا۔ بچپن سے ہی ادبی ماحول میں رہنے کی وجہ سے ان کا شعری ذوق تیز ہوا اور وہ جلد ہی اردو شاعری کے معروف چہروں میں شمار ہونے لگے۔جگر مرادآبادی کی شاعری کلاسیکی غزل کے اسلوب میں ہے اور ان کے شعری مجموعوں میں داغِ جگر، شعلۂ طور اور آتِشِ گل شامل ہیں، جنہوں نے اردو ادب میں ان کا مقام مستحکم کیا۔ ان کی شاعری میں رومانیت، غم، مے نوشی اور روحانی کشمکش کی جھلک نمایاں ہے، جو قاری کے دل و دماغ پر دیرپا اثر چھوڑتی ہے۔ ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں ۱۹۵۸ میں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی جانب سے اعزازی ڈاکٹریٹ (D.Litt) بھی عطا کیا گیا۔جگر مرادآبادی نو ستمبر انیس سو ساٹھ کو گونڈا، اتر پردیش میں وفات پا گئے۔ ایک کم معروف حقیقت یہ بھی ہے کہ وہ صوفی سلسلوں کے قریب رہے اور ان کی شاعری میں روحانی اور فکری گہرائی اسی تعلق کی عکاسی کرتی ہے۔ ان کی تخلیقات آج بھی اردو ادب میں محبت، جذبات اور انسانی تجربات کی عکاسی کے طور پر زندہ ہیں اور نئے شعرا اور ادب دوست ان سے متاثر ہوتے ہیں۔

منتخب اشعار

یہ مصرع کاش نقش ہر در و دیوار ہو جائے

جسے جینا ہو مرنے کے لیے تیار ہو جائے

پورا کلام ‹

یہ ہے مے کدہ یہاں رند ہیں یہاں سب کا ساقی امام ہے

یہ حرم نہیں ہے اے شیخ جی یہاں پارسائی حرام ہے

پورا کلام ‹
  1. 01 یہ مصرع کاش نقش ہر در و دیوار ہو جائے Yeh misra kaash naqsh har dar-o-deewar ho jaye آواز میں دستیاب
  2. 02 یہ ہے مے کدہ یہاں رند ہیں یہاں سب کا ساقی امام ہے Yeh hai mai-kada yahan rind hain yahan sab ka saqi Imam hai آواز میں دستیاب
  3. 03 یادش بخیر جب وہ تصور میں آ گیا Yaadash bakhair jab woh tasavvur mein aa gaya آواز میں دستیاب
  4. 04 وہ جو روٹھیں یوں منانا چاہیئے Woh jo roothein yun manana chahiye آواز میں دستیاب
  5. 05 وہ ادائے دلبری ہو کہ نوائے عاشقانہ Woh ada-e-dilbari ho ke nawa-e-ashiqana آواز میں دستیاب
  6. 06 اسے حال و قال سے واسطہ نہ غرض مقام و قیام سے Use haal-o-qaal se waasta na gharaz muqam-o-qayam se آواز میں دستیاب